6 جنوری 2013 - 20:30

بشار الاسد نے کہا: ہم اپوزیشن کے خلاف نہيں بلکہ دشمنوں کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ یہ جنگ میرے مخالفین اور میرے حامیوں کے درمیان نہیں ہے بلکہ پورا شام اپنے تمام دشمنوں کا مقابلہ کررہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام کے بشارالاسد نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے شام کے بحران کے لئے تین مراحل پر استوار راہ حل پیش کیا جن میں پہلا مرحلہ یہ ہے کہ دوسرے ملک شام میں برسرپیکار مسلح دہشت گردوں کی مدد و حمایت اور انہیں پناہ دینا ترک کردیں اور جنگی صورت حال اور فوجی کاروائیاں رک جائيں، پہلے مرحلے کو عملی جامہ پہنایا جائے تو دوسرے مرحلے میں اطمینان کے لئے حکمت عملی وضع کی جائے گی اور تمام فریقوں کی طرف سے پہلے مرحلے کی پابندی اور خاص طور پر سرحدوں پر کڑی نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا اور تیسرے مرحلے قومی گفتگو کا آغاز ہوگا جس میں تمام اندرونی فریق شریک ہونگے اور یہ گفتگو قومی کانفرنس کے لئے راستہ ہموار کرے گی اور باہر سے آنے والی تجاویز کو ان ہی قومی نکات کے مطابق ہونا چاہئے۔ صدر اسد نے کہا: راہ حال سیاسی بھی ہونا چاہئے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بنیاد پر بھی استوار ہونا چاہئے اور تیسرا محور جو بہت اہم ہے وہ سماجی اور معاشرتی محور ہے۔ صدر اسد نے کہا:ہمارے پاس شام کے بحران کے حل کے لئے کئی نمونے بھی ہیں ۔۔۔ درعا اور حمص میں سماجی راہ حل کی وجہ سے حالات بہت اچھے ہیں کیونکہ وطن پرست اور بااخلاق افراد نے بعض تخلیقی اقدامات کئے جس کے نتائج بہت اہم اور حقیقی ہیں۔۔۔ یہ افراد کسی جماعت سے وابستہ نہیں ہیں اور ان کا اپنا کوئی سیاسی ایجنڈا بھی نہیں ہے بلکہ وہ صرف محب وطن ہیں اسی وجہ سے اس قسم کے تخلیفی اقدامات بہت اہم ہیں اور ہمیں ہمیشہ معاشرے کی جڑوں کی طرف لوٹنا چاہئے۔ ہم نے اپنا ہاتھ دوستی اور مذاکرات کے لئے بڑھایا ہوا ہے اور اپنے سیاسی مخالفین سے گفتگو کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ ان کے ساتھ مذاکرات قومی مفادات سے متصادم نہ ہوں۔ ان جماعتوں اور افراد کے ساتھ گفتگو کے لئے تیار ہیں جنہوں نے ملک اجنبیوں کو فروخت نہ کیا ہو حتی ان لوگوں کے ساتھ بھی جو ہتھیار ڈال دیں اور پرامن راہ حل کی طرف لوٹ آئیں۔ہم اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک مستقل اور خودمختار ملک اور قوم ہیں اور ہماری سلامتی کے ثابت اصول ہیں جو بیرونی عدم مداخلت پر استوار ہیں اور ہم اپنے ملک میں امن قائم کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں جس کے مراحل کچھ یوں ہیں:پہلا مرحلہ:پہلا قدم یہ ہے کہ علاقائی اور عالمی سطح پر اس بحران میں مؤثر ممالک مسلح عناصر کی مالی اور عسکری مدد و حمایت بند کریں اور انہیں پناہ دینے کا سلسلہ بھی بند کریں اور اس کے ساتھ مسلح عناصر دہشت گردانہ کاروائیاں بند کریں؛ یہ اقدامات شامی مہاجرین کی وطن واپسی اور ان کی اپنے گھروں میں رہائش کو ممکن بنائیں گے۔ ۔۔۔ اس کے بعد مسلح افواج کی فوجی کاروائیاں بھی بند ہونگی تاہم اگر ملکی سالمیت اور امن و امان پر حملہ ہوا، یا عمومی سرکاری اور قومی املاک اور اہم تنصیبات اور ملک کے بنیادی ڈھانچے پر جارحیت ہوئی تو مسلح افواج ان کا جواب دینے کا اپنا حق محفظ رکھیں گی۔ دوسرا قدم: ایک ایسی حکمت عملی وضع کی جائے گی جس کے پہلے نکتے پر تمام فریقوں کے عملدرآمد اور پابندی پر نگرانی کرکے اس سے اطمینان حاصل کیا جائے گا خاص طور پر سرحدوں پر کڑی نگرانی یقینی بنائی جائے گی۔ تیسرا قدم: برسراقتدار حکومت تمام جماعتوں اور پارٹیوں اور گروپوں کے ساتھ رابطہ کرے گی تا کہ "نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس" کے لئے آزادانہ مذاکرات تمام اندرونی فریقوں نیز پرامن سیاسی حل کے خواہاں بیرونی فریقوں کی موجودگی میں، منعقد کئے جاسکیں۔دوسرا مرحلہ:پہلا قدم: حکومت شام کی قومی حاکمیت، ارضی سالمیت اور قومی یکجہتی نیز ہر قسم کی بیرونی مداخلت اور دہشت گردی اور تشدد کی نفی پر استوار قومی منشور تک پہنچنے کے لئے وسیع البنیاد ڈائیلاگ کانفرنس کا اعلان کرے گی۔ یہ منشور شام کے مستقبل کی خاکہ کشی کرے گا اور قانون و انصاف کا نظام اور سیاسی و معاشی دائرہ کار نیز جماعتوں اور انتخابات وغیرہ کے لئے نئے قوانین پیش کرے گا۔ دوسرا قدم: قومی منشور ریفرینڈم کے لئے قوم کے سامنے رکھا جائے گا۔ تیسرا قدم: معاشرے کے مختلف طبقوں کے نمائندوں کی موجودگی ميں وسیع البنیاد حکومت بنائی جائے گی جو قومی منشور کے تمام دفعات و شقوق کا نفاذ کرے گی۔ چوتھا قدم: آئین پر ریفرینڈم کرایا جائے گا اور جب آئین منظور ہوگا تو حکومت نئے اور متفقہ قوانین کے تحت نئے پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کرے گی۔ آئین کے سلسلے میں تمام مسائل سے قبل "اگر" کا اضافہ کرنا چاہئے یعنی یہ کہ اگر قومی ڈائیلاگ کانفرنس میں ان پر اتفاق ہوا تو ۔۔۔تیسرا مرحلہ:پہلا قدم: نئی حکومت نئے آئین کے مطابق، تشکیل پائے گی۔دوسرا قدم: قومی آشتی کانفرنس منعقد کی جائے، واقعات و حوادث میں گرفتار ہونے والے افراد ان کے شہری حقوق کے تناسب سے، رہا کیا جائے گا۔ تیسرا قدم: بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کا آغاز کیا جائے گا اور حوادث کے دوران عوام کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔ عام معافی اور افراد کو ان کے شہری حقوق کے تناسب سے، رہا کرنے کی شقّ کے بارے میں واضح کیا جاتا ہے کہ حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے حق سے درگذر کرے لیکن اس کو شہریوں کے حقوق کی پامالی سے درگذر کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ البتہ میری رائے یہ ہے کہ اگر ہم اس مرحلے تک پہنچیں تو عام معافی کا اعلان شہریوں کی طرف سے ہونا چاہئے جن کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے اور یہ اعلان حکومت کی طرف سے نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جب عوام کی طرف سے ایسا اعلان ہوگا تو ہم قومی آشتی کے ہدف تک پہنچ سکیں گے اور سب ایک دوسرے کو معاف کرسکیں گے۔ یہ سارے نکات سیاسی راہ حل کے لئے حکمت عملی کا حصہ ہیں جن کے عناوین پیش کئے گئے ہیں اسی وجہ سے شام کی حکومت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان عناوین کو وسعت دے اور حکومت آئند چند ہی دنوں میں مکمل حکمت عملی کا اعلان کرے گی۔ اس کے بعد تمام شقوق مذکورہ بالا پروگرام کے مطابق آگے بڑھائے جائیں گے۔ محاذ مزاحمت اور شام کو نقصان پہنچانے کی سازششام جن لوگوں کا مقابلہ کررہا ہے وہ ایسیے جاسوس ہیں جو القاعدہ کے تفکرات کے سائے میں شام کو نیست و نابود کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؛ ہم بعض قوتوں اور ممالک کی طرف سے شام کو نقصان پہنچانے کی سازشوں کی مذمت کرتے ہیں جو محاذ مزاحمت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور شام سے اس کا علاقائی کردار چھیننا چاہتے ہیں۔ہمارے ملک و قوم کو شدید دکھوں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے اور جب تک ہم سب مل کر ایک قومی اقدام کے ذریعے ان مصائب کو ختم کرنے کا اہتمام نہیں کریں گے اس صورت سے نکلنا ممکن نہیں ہوسکے گا اور ہمارا ملک ہمہ جہت علاقائی اور بین الاقوامی یلغار سے چھٹکارا نہيں پاسکے گا۔ یہ قومی اقدام ان گہرے زخموں پر مرہم کا کام دے گا جو ہمارے معاشرے پر لگائے گئے ہیں اور مشترکہ قومی اقدام واحد راستہ ہے جس پر گامزن ہوکر ہم شام کا تحفظ کرسکتے ہیں اور اس کو سیاسی لحاظ سے زیادہ طاقتور بنائے گا اور اس کو اس کے اصلی معاشرتی، تعلیمی و ّثقافتی اور اخلاقی مقام کی طرف لوٹا سکے گا اور اس سلسلے میں معاشرے کا ہر فرد ذمہ دار اور جوابدہ ہے۔ ہم حالت جنگ میں ہیں لیکن اپوزیشن جماعتوں کے خلاف نہيںایک جال بچھایا گیا اور بہت سے لوگ اس جال میں پھنس گئے اور تصور ان کے سامنے مجسم ہوا کہ گویا اپوزیشن جماعتیں اقتدار کے حصول کے لئے حکومت کے خلاف برسر پیکار ہیں، اسی لئے کنارہ کش ہوکر خاموش ہوگئے اور اپنے آپ کو غیرجانبدار سمجھ بیٹھے حالانکہ حقیقی جنگ ملک اور اس کے دشمنوں کے درمیان اور عوام اور ان کے جرائم پیشہ اور درندہ خو قاتلوں کے درمیان ہے؛ یہ جنگ شام کے باشندوں اور ان عناصر کے درمیان ہے جو عوام کے فرد فرد کو دانہ پانی اور رزق و زندگی کے وسائل سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ انقلاب کا تعلق عوام سے ہوتا ہے نہ کہ باہر سے بھجوائے جانے والے دہشت گردوں کابعض لوگوں نے ابتداء میں انقلاب کا دعوی کیا اسی وجہ سے شام کے عوام نے ان کے خلاف قیام کیا چنانچہ ان لوگوں کو کوئی مقبولیت نہ ملی اور جب انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور عوام کو رقم کی لالچ اور ہتھیاروں کے زور پر اپنے ساتھ نہ ملا سکے تو دوسرے مرحلے میں ان کے چہرے سے "پرامن جدوجہد" کا نقاب اتر گیا اور جن ہتھیاروں سے وہ ابتداء ہی سے خفیہ طور پر استفادہ کرکے عوام کا قتل عام کررہے تھے ان ہی ہتھیاروں کو ظاہر کیا اور اس کے بعد شہروں پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھنے لگے تا کہ بھیڑیوں کی طرح شہروں کو نابود کردیں اور اس مقصد کے لئے انھوں نے وحشیانہ حملے کئے لیکن عوام نے استقامت دکھائی تو انھوں نے عوام سے انتقام لینے کی ٹھانی اور جہاں بھی پہنچے عوام سے انتقام لیا اور اندھادھند انداز سے قتل عام کیا۔ بعض لوگوں نے ابتداء میں انقلاب کا دعوی کیا اسی وجہ سے شام کے عوام نے ان کے خلاف قیام کیا چنانچہ ان لوگوں کو کوئی مقبولیت نہ ملی اور جب انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور عوام کو رقم کی لالچ اور ہتھیاروں کے زور پر اپنے ساتھ نہ ملا سکے تو دوسرے مرحلے میں ان کے چہرے سے "پرامن جدوجہد" کا نقاب اتر گیا اور جن ہتھیاروں سے وہ ابتداء ہی سے خفیہ طور پر استفادہ کرکے عوام کا قتل عام کررہے تھے ان ہی ہتھیاروں کو ظاہر کیا اور اس کے بعد شہروں پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھنے لگے تا کہ بھیڑیوں کی طرح شہروں کو نابود کردیں اور اس مقصد کے لئے انھوں نے وحشیانہ حملے کئے لیکن عوام نے استقامت دکھائی تو انھوں نے عوام سے انتقام لینے کی ٹھانی اور جہاں بھی پہنچے عوام سے انتقام لیا اور اندھادھند انداز سے قتل عام کیا۔ مسلح دہشت گرد اپنے ان اقدامات کو انقلاب کا نام دیتے ہیں حالانکہ ان کا انقلاب سے دور کا نہ ہی نزدیک کا کوئی تعلق نہيں ہے، انقلاب کے لئے مفکرین اور دانشمند لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے انقلاب فکر اور سوچ پر استوار ہوا کرتا ہے؛ ہمارا سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں کا مفکر اور صاحب رائے و نظر عنصر کون ہے؟ کیا کوئی اس کو جانتا ہے؛ انقلاب کو ایک رہبر و راہنما کی ضرورت ہوتی ہے؛ سوال یہ ہے کہ مسلح دہشت گردوں کے دعوے کے مطابق اس انقلاب کا رہبر و راہنما کون ہے؟ کوئی اس کے رہبر کو جانتا ہے؟ ات جہل کے اوپر استوار نہيں ہوا کرتے بلکہ علم اور فکر کی بنیاد پر استوار ہوا کرتے ہیں؛ انقلابات ممالک کو آگے کی طرف لے جانے اور ترقی دینے کے لئے آتے ہیں نہ یہ کہ ایک ملک کو صدیوں برابر پسماندگی سے دوچار کردیں۔۔۔ انقلابات عوام کے ہاتھوں بپا ہوتے ہیں نہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں جو باہر سے ہتھیاروں سے لیس کرکے اندر بھجوادیئے جاتے ہیں، انقلاب ایک قوم کے مفاد کے لئے ہوتا ہے نہ کہ اس کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے۔ یہ انقلاب ایک جرم ہے اور یہ انقلابی جرائم پیشہ قاتلوں اور درندوں کا ایک گروپ ہے۔ مسلح گروپوں کی پشت پر تکفیریوں کا کرداران تمام حملوں کو پس پردہ مسلح دہشت گردوں کی پشت پر تکفیری سرگرم عمل تھے جو دھماکے کرتے اور اجتماعی قتل کا ارتکاب کرتے تھے؛ تکفیری مسلح گروہوں کو آگے بھجوا کر پیچھے سے ان کی مدد کرتے تھے؛